اور اب یہ دل بھی مانتا ہے




اور اب یہ دل بھی مانتا ہے
وہ میری دسترس سے ماورا ہے
چلو کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ تے ہیں
ہوا کا زور بڑھتا جا رہا ہے
مرے دل میں ہے صحراؤں کا منظر
مگر آنکھوں سے چشمہ پھوٹتا ہے
صدا کوئی سنائی دے تو کیسے
مرے گھر میں خلا اندر خلا ہے
زمانہ ہٹ چکا پیچھے کبھی کا
اور اب تو صرف اپنا سامنا ہے
ہیں چپ ہوں اب اسے کیسے بتاؤں
کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے
آصف شفیع




اپنا تبصرہ بھیجیں