یہ بھی کرنا پڑا محبت میں




یہ بھی کرنا پڑا محبت میں
خود سے ڈرنا پڑا محبت میں
دشت جاں کے مہیب رستوں سے
پھر گزرنا پڑا محبت میں
کتنے ملبوس زخم نے بدلے
جب سنورنا پڑا محبت میں
پار اترے تو پھر سمجھ آئی
کیوں اتر نا پڑا محبت میں
خود بخود ہم سمٹ گئے دل میں
جب بکھرنا پڑا محبت میں
آصف شفیع




اپنا تبصرہ بھیجیں