عمر ساری تری چاہت میں بتانی پڑ جائے




عمر ساری تری چاہت میں بتانی پڑ جائے
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آگ بجھانی پڑ جائے
میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو
اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے !
میرے اعدا سے کہو ، حد سے تجاوز نہ کریں
یہ نہ ہو مجھ کو بھی شمشیر اٹھانی پڑ جائے
کیا تماشا ہو اگر وقت کے سلطان کو بھی
در انصافکی زنجیر ہلانی پڑ جائے
کاش پھر مجھ کو وہ تصویر دکھانی پڑ جائے
دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصف
زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے
آصف شفیع




اپنا تبصرہ بھیجیں