بجھی ہے آتش رنگ بہار آہستہ آہستہ




بجھی ہے آتش رنگ بہار آہستہ آہستہ
گرے ہیں شعلہ گل سے شرار آہستہ آہستہ
وہ اک قطرہ کہ برگ دل پہ شبنم سا لرزتا تھا
ہوا ہے بحر نا پیدا کنار آہستہ آہستہ
اڑا ہے رفتہ رفتہ رنگ تصویر محبت سے
ہوئی ہے رسم الفت بے وقار آہستہ آہستہ
سراب آرزو میں پھر کوئی منظر بھی چمکے گا
اٹھے گی دشت سے موج غبار آہستہ آہستہ
کہیں اسلم تمہیں پھر گہر ی یا سیت نہ چھو جائے
رہو راہ طلب میں محو کار آہستہ آہستہ
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں