میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں




میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخصکو دیکھا بھی نہیں
اک مسافر کہ جسے تیری طلب ہے کب سے
احتراما ترے کوچے سے گزرتا بھی نہیں
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں