خدا کا شکر کہ یہ آرزو ئے نغمہ گری




خدا کا شکر کہ یہ آرزو ئے نغمہ گری
کسی طرح سے بھی سرمایہ ہوس میں نہیں
خدا کا شکر کہ یہ شیوہ نوا سنجی
متاع رنگ کی صورت کسی قفس میں نہیں
صدائے نغمہ و ساز غزل کا حاصل فن
جہان مصلحت آگیں کے پیش و پس میں نہیں
جمال شعر کو اک عمر کا ریاض ہے شرط
یہ ہر نوائے خروشاں کی دسترس میں نہیں
کسی کے دائرہ کار میں کہاں یہ ہنر
مقام شعر تو خود اہل فن کے بس میں نہیں
خدا کا شکر کہ اہل چمن کا حصہ ہے
وہ کرب ذات جو ہر شاخ تازہ رس میں نہیں
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں