کم سے کم تر ہمیں توفیق انا چاہیے تھی




کم سے کم تر ہمیں توفیق انا چاہیے تھی
ہم کو بھی وضع تماشا بخدا چاہیے تھی
کوئی آواز تو ہوتی غم دوراں پہ محیط
کوئی فریاد تو دنیا میں رسا چاہیے تھی
فن کو اخفائے انا کہتے ہیں کچھ اہل نظر
خود نمائی میں بھی چھپنے کی ادا چاہیے تھی
جس کو نو عمری کے طوفان میں ہم کھو بیٹھے
پھر اسی طرز کی اک اور عطا چاہیے تھی
کتنے ارباب کو آداب بجا لائے ہیں
ایسی پستی میں بھی اک رمز دعا چاہیے تھی
رگ ہر ساز یہ کہتی ہے کہ اے نغمہ طراز
مجھ کو اک سلطنت صوت و صدا چاہیے تھی
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں