ملی تھیں عشق میں یوں تو بشارتیں کیا کیا




ملی تھیں عشق میں یوں تو بشارتیں کیا کیا
مگر اٹھائی ہیں دل نے صعوبتیں کیا کیا
بسا بسا یا تھا جیسے وہ شہر خواب و خیال
اور اس میں پھیل گئیں اپنی شہرتیں کیا کیا
نہ جانے دشت میں کس دل سے چھوڑ آئے ہیں
پکارتی ہین ہمیں اب بھی وحشتیں کیا کیا
زمانہ پردہ عکس آفریں ہے کس رو کا ؟
بدلتی رہتی ہیں منظر میں سورتیں کیا کیا
کلام بن کے پھر ا ہے دروغ کیا کیا کچھ
سکوت بن کے رہی ہیں صداقتیں کیا کیا
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں