مئے شکستہ دلی، اے حریف ذوق نمو !




مئے شکستہ دلی، اے حریف ذوق نمو !
کسی گزشتہ صدی کے اطاق ویراں سے
نہ ڈٓل اور مرے دل پہ سایہ گیسو
وہ عنکبوت جو تار نفس میں جیتے ہیں
نہ جانے کیسے در آئے ہیں تیری محفل میں
کہ خون یہ بھی ترے رتجگوں کا پیتے ہیں
میں جانتا ہوں، کسے مل سکی ، کسے نہ ملی
وہ گل سرائے بہشت آفریں مگر پھر بھی
مجھے نہفتہ نہ رکھ اے مئے شکستہ دلی
مرے ظہور میں کچھ ممکنا ت میرے ہیں
میں دیکھ پاؤں اگر تجھ سے ، اس افق سے مرے
تو پھر یہ سارے درخشاں جہات میرے ہیں
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں