وہ نخل جو بارور ہوئے ہیں




وہ نخل جو بارور ہوئے ہیں
آشوب خزاں سے ڈر رہے ہیں
ظلمت میں بہت ہی یاد آئے
وہ چاند جو ہمسفر رہے ہیں
صحرا کا سکوت کہہ رہا ہے
شہروں کے چراغ بجھ گئے ہیں
آفاق کی وسعتوں سے آگے
کچھ اور چراغ جل اٹھے ہیں
انساں کا شعور کہہ رہا ہے
انساں نے بگہت سے غم سہے ہیں
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں