وہ دشت شب وہ کہین دور رتجگوں کی دھمک




وہ دشت شب وہ کہین دور رتجگوں کی دھمک
اشارہ دیتے چلے تھے ستارگان فلک
چھلک اٹھی ہیں کئی چھاگلیں صداؤں کی
مرے خیال کی زنجیر ! آج تو بھی چھنک
بہار بن کے کھل اٹھتا ہے قربتوں کا خیال
ستارہ بن کے چمکتی ہے دوریوں کی مہک
کہا تو تھا کہ نہ اس کوئے مہ چکاں سے گزر
دل خراب ! نہ اب ایسے تیز تیز دھڑک
ہم ایک عہد تمنا ہیں ، ایک دور خیال
ہمارے لہجے میں ہے کتنے زمزموں کی کھنک
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں