عمر کے آنگن میں بیلیں بن کے پھیلا کوئی خواب




عمر کے آنگن میں بیلیں بن کے پھیلا کوئی خواب
جیسے جینے کے لیے کافی ہو تنہا کوئی خواب
پھر دھڑ کتے ہیں دل انساں میں فردا کے خیال
پھر ہواؤں نے زمیں پر لا اتارا کوئی خواب
اس کو خوابوں سے زیادہ رتجگوں سے پیار تھا
اس کی پلکوں پر اسی باعث نہ ٹھہرا کوئی خواب
کیا تماشا گاہ میں اس کے لئے منظر نہ تھے
یا اسے مصروف رکھتا ہے اسی کا کوئی خواب
شور دنیا میں سسکتی ہے صدائے دل کہیں
زندگی ! تشکیل دے نغمات جیسا کوئی خواب
اسلم انصاری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں