من کیکر کی اک ٹہنی صندل کر مولا




من کیکر کی اک ٹہنی صندل کر مولا
پھر صندل کو صندل کا جنگل کر مولا
اک عمر ہوئی ہے سارا تن من راکھ ہوئے
اب دھوپ بھر ے ملبوس کو بادل کر مولا
اسلم کولسری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں