جتنا بھی گدلا ہوں سائیں




جتنا بھی گدلا ہوں سائیں
تیرے دوار کھڑا ہوں سائیں
وقت کی بازی گاہ میں آکر
سب کچھ ہار گیا ہوں سائیں
صدیوں کا سناٹا اوڑھے
محفل مین بیٹھا ہوں سائیں
رستے غائب ہو جاتے ہیں
جب چلنے لگتا ہوں سائیں
اندھیارا ہے آوازیں ہیں
اندھے کا سپنا ہوں سائیں
تیز ہواؤں کے نرغے میں
کاغذ کا ٹکڑا ہوں سائیں
اسلم کولسری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں