اور کہاں تک اپنے حصے کی من مانی کرتے




اور کہاں تک اپنے حصے کی من مانی کرتے
زیست کا صحرا پار کیا ہے پانی پانی کرتے
صبح گلابی بھرتے ہم آنکھوں میں آنسو بھر کر
اور اپنی ہی خاک اڑا کر شام سہانی کرتے
اسلم کولسری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں