نہیں ہے اپنا کوئی خاص رنگ عالیجاہ




نہیں ہے اپنا کوئی خاص رنگ عالیجاہ
کہ آئنہ ہیں مکمل نہ سنگ عالیجاہ
کچھ اس لیے بھی نکلتا نہیں ہے سینے سے
کہ تیر بھی ہے سراسر امنگ عالیجاہ
دھڑک رہی ہے ابھی دل بوند سی کوئی
پھڑک رہا ہے ابھی انگ انگ عالیجاہ
پکارتے ہیں کسی مہرباں ملامت کو
اتارتے ہیں زبانوں کا زنگ عالیجاہ
مگر یہ دل تو سمندر بتائے جاتے تھے
زمیں تو خیر ہوئی ہم پہ تنگ عالیجاہ
بڑے غرور سے پھرتے ہیں اپنی خاک اوڑھے
اسی نواح میں بے نام و ننگ عالیجاہ
کبھی کبھی تو یہ سورج دکھائی پڑتا ہے
ہوا کے دوش پہ رکھا پتنگ عالیجاہ
اسلم کولسری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں