میرے آنگن میں جو گئی ہو گی




میرے آنگن میں جو گئی ہو گی
چاندنی کانپ تو گئی ہو گی
شہر مین قمقمے چمک اٹھے
گاؤں میں شام ہو گئی ہو گی
پھر حسیں مہتاب گہنایا
وہ بھی سوچوں میں کھو گئی ہو گی
لفظ بجھنے لگے خیالوں میں
وہ غزل فام سو گئی ہو گی
شب ہوئی، دن کی روشنی اسلم
اس کے دیدار کو گئی ہو گی
اسلم کولسری ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں