لمحہ لمحہ یاد آتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا




لمحہ لمحہ یاد آتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
ہر موسم میں تڑپاتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
اب کے بھی وہ رت آئی ہے شاید وہ بھی لوٹ ہی آئے
کہہ کہہ کے یہ بہلاتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
جب بھی تیری یاد سے آگے بڑھنا چاہوں تو دل میرا
پھر سے آنکھ میں لے آتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
تیرا رستہ تکتے تکتے آنکھ کے منظر سرد ہوئے یوں
ہر منظر میں در آتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
ویسے تو بے دردی جینا مشکل ہو جانا تھا لیکن
سانسیں ہر دم مہکاتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
آس امید کے دیپک سارے دھیرے دھیرے بجھ جاتے ہیں
ان کو پھر سے سلگاتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
ذات کے اس زنداں میں صفی جی بکھری ویرانی کے ڈر سے
ہر پل چیختا چلاتا ہے پچھلی رت کا ساتھ تمہارا
عتیق الرحمٰن صفی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں