کسے خبر ہے !




کسے خبر ہے !
میں آج خوش ہوں
کہ رسم دنیا نبھارہا ہوں
چراغاں کر کے تمام گھر میں
میں گیت خوشیوں کے گا رہا ہوں
اکیلے پن کی اذیتوں میں
یہ جشن کیسا منا رہا ہوں
کسے خبر ہے
کہ دل کی دنیا تمام رسموں سے ماورا ہے
یہ گھر ہے روشن
مگر یہ دل تو بجھا ہوا ہے
عتیق الرحمٰن صفی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں