کتھارسس 2




کرن کے پھونٹے تلک
سکوت ٹوٹنے تلک
زمانے بھر کی وحشتیں
تمام تر جہاں کے غم
اور اس پہ میری چشم نم
یہ سب مرے رفیق ہیں
یہ کس قدر شفیق ہیں
یہ کس قدر شفیق ہیں
عتیق الرحمٰن صفی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں