لمحہ لمحہ زوال ہو گا




لمحہ لمحہ زوال ہو گا
درد سہنا محال ہو گا
لوٹ آتے ہیں جانے والے
خام تیرا خیال ہو گا
اب کے ٹوٹا ہے مان ایسا
پھر کبھی نہ بحال ہو گا
اب بھی بدلے ہیں صرف ہندسے
پہلے جیسا ہی سال ہو گا
حال دل مت کسی سے کہنا
بعد میں پھر ملال ہو گا
مر ہی جائیں گے ہجر میں ہم
جی لیا تو کمال ہو گا
آج فرقت ہے اک حقیقت
روز محشر وصال ہو گا
عتیق الرحمٰن صفی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں