مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا




مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا
لبوں سے لب دم آخر ملا دیتے تو اچھا تھا
میں جی سکتا تھا بس تیری ذرا سی اک عنایت سے
مرے ہاتھوں میں ہاتھ اپنا تھما دیتے تو اچھا تھا
مری بے تاب دھڑکن کو بھی آجاتا قرار آخر
مرے خوابوں کی دنیا کو سجا دیتے تو اچھا تھا
تمہاری بے رخی پر دل مرا بے چین رہتا تھا
کبھی عادت یہ تم اپنی مٹا دیتے تو اچھا تھا
کبھی اس جلد بازی کا ثمر اچھا نہیں ہوتا
کو ئی دن اور چاہت میں بتا دیتے
صفی آنسو بھی دشمن بن گئے ہیں دیکھ لے آخر
انہیں تم ضبط نہ کرتے بہا دیتے تو اچھا تھا
عتیق الرحمٰن صفی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں