دم بدم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو




دم بدم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو
جیسے آئے دبے پاؤں سیل بلا شہر والو سنو
خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا، اس کو کیا ہو گیا
دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ شہر والو سنو
عمر بھر کا سفر جس کا حاصل ہے اک لمحہ مختصر
کس نے کیا کھو دیا کس نے کیا پا لیا شہر والو سنو
اس کی بے خواب آنکھو ں میں جھانکو کبھی، اس کو سمجھو کبھی
اس کو بیدار رکھتا ہے کیا واقعہ شہر والو سنو
اطہر نفیس ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں