اطہر تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا




اطہر تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
کوئی نیا احساس ملا، یا سب جیسا احوال ہوا
راہ وفا میں جاں دینا ہی پیشروؤں کا شیوہ تھا
ہم نے جب سے جینا یکھا جینا کار مثال ہوا
عشق فسانہ تھا جب تک اپنے بھی بہت افسانے تھے
عشق صداقت ہوتے ہوتے کتنا کم احوال ہوا
راہ وفا دشوار بہت تھی تم کیوں میرے ساتھ آئے
پھول سا چہرہ کملا یا اور رنگ حنا پامال ہوا
اطہر نفیس ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں