تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا




تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا
میرے سینے میں کبھی اک اضطراب ایسا بھی تھا
زندگی تنہا نہ تھی اے عشق تیری راہ میں
دھوپ تھی صحرا تھا اور اک مہرباں سایا بھی تھا
عشق کے صحرا نشینوں سے ملاقاتیں بھی تھیں
حسن کے شہر نگاراں میں بہت چرچا بھی تھا
ہر فسردہ آنکھ سے مانوس تھی اپنی نظر
دکھ بھرے سینوں سے ہم رشتہ مرا سینہ بھی تھا
تھک بھی جاتے تھے اگر صحرا نوردی سے تو کیا
متصل صحرا کے، اک وجد آفریں صحرا بھی تھا
اطہر نفیس ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں