یاد رکھنے کے لئے اور نہ بھلانے کے لئے




یاد رکھنے کے لئے اور نہ بھلانے کے لئے
اب وہ ملتا ہے تو بس رسم نبھانے کے لئے
مصلحت کیش نہیں ہم مگر اے جان جہاں
تم سے اک بات چھپائی ہے بتانے کے لئے
ریزہ ریزہ ہوئیں آنکھیں تو سر آئینہ زار
آگئے لوگ ترے عکس اٹھانے کے لئے
ایک دل تھا جسے پہلے ہی گنوا بیٹھے ہیں
اور اس گھر میں بچا کیا ہے لٹانے کے لئے
ہم بھی اس عمر رواں میں کہیں بہہ جائیں گے
تو بھی باقی نہ رہے گا ہمیں پانے کے لئے
اس نواح لب و رخسار میں اے دیدہ و دل
ہے کوئی وصل سرا ہجر منانے کے لئے
خلوت حسن تغافل ! کبھی ہم آئیں گے
کنج لب میں سے کوئی نظم چرانے کے لئے
ایوب خاور ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں