یہ تو سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ مر جائے گا




یہ تو سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ مر جائے گا
چاند اک قبر کے سینے میں اتر جائے گا
یہ جو اک خواب سا پلکوں سے بندھا رکھا ہے
آنکھ جھپکو گے تو دامن میں بکھر جائے گا
ہجر کی ریگ رواں ساتھ لئے پھرتی ہے
اس خرابے میں بھلا کون کد ھر جائے گا
حسن اور عشق کے مابین ٹھنی ہے اب کے
اس لڑائی میں کسی ایک کا سر جائے گا
تو نے دیکھا ہے کچھ اس طرح کے اے صورت ماہ
ہاتھ دل پر جو نہ رکھا تو ٹھہر جائے گا
دیکھنا ایک نہ اک دن تری خوشبو کا جمال
درد کی طرح رگ جاں میں اتر جائے گا
یہ مری عمر کا صحرا مرے دجلوں کا سراب
سر مژگاں نہ رہے گا تو کدھر جائے گا
ایوب خاور ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں