بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں




بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں
تو جفا کار ہوا ہے تو وفا کس سے کریں
آئینہ سامنے رکھیں تو نظر تو آئے
تجھ سے جو بات چھپانی ہو، کہا کس سے کریں
باتھ الجھے ہوئے ریشم مین پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں
زلف سے چشم و لب و رخ سے کہ تیرے غم سے
بات یہ ہے کہ دل و جاں کو رہا کس سے کریں
تو نہیں ہے تو پھر اے حسن سار بتا
اس بھرے شہر مین ہم جیسے ملا کس سے کریں
تو نے تو اپنی سی کرنی تھی، سو کر لی خاور
مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کا گلا کس سے کریں
ایوب خاور ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں