کوئی گمان تغیر ضرور تھا پہلے




کوئی گمان تغیر ضرور تھا پہلے
ہوائے تازہ میں کیا کیا سرور تھا پہلے
خزاں میں بیٹھ گئی لے کے مجھ کو وحشت دل
بہار تھی تو جنوں پر عبور تھا پلے
بتا گئی یہ مجھے ایک تیری لذت قرت
تمام وقفہ، جاں بے حضور تھا پہلے
ہزار ہاتھوں سے تجھ کو سنبھالتا تھا جنوں
ترا وہ حال دل ناصبور تھا پہلے
خبر نہیں ترا ادراک ہمکنار ی بھی
وفاتھی یا غم جاں کا شعور تھا پہلے
گلہ ہے ایک تلون مزاج انساں کا
کوئی پری نہ کوئی پری نہ کوئی رشک حور تھا پہلے
تجھے اشارہ غیبی ہوا ہے، خواب وصال
یہ آئینہ تری خلوت سے دور تھا پہلے
ہوائے نرم یہ گوش وفا میں کہتی ہے
وہ کون ہے جو ترے دل سے دور تھا پہلے
بجھا کے مشعل دل بیٹھا کیوں گئے یارو
یہ ترک عشق بھی کس کا قصور تھا پہلے
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں