ہزار وقت کے پر نظر میں ہوتے ہیں




ہزار وقت کے پر نظر میں ہوتے ہیں
ہم ایک حلقہ وحشت اثر میں ہوتے ہیں
کبھی کبھی نگہ آشنا کے افسانے
اسی حدیث سر رہگذر میں ہوتے ہیں
وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط
جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں
کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب
بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ہیں
قفس وہی ہے جہاں رنج تو بہ نوا اے دوست
نگاہ داریح احساس پر میں ہوتے ہیں
سرشت گلا ہی میں پنہاں ہیں سارے نقش و نگار
طلسم خواب زلیخا ، دام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں