گل کا وہ رخ بہار کے آغا ز سے اٹھا




گل کا وہ رخ بہار کے آغا ز سے اٹھا
شعلہ سا عندلیب کی آواز اسے اٹھا
نودست زخمہ ور نے مٹادی حد کمال
پردے جلے تمام دھواں ساز سے اٹھا
جیسے دعائے نیم سہی کا سرور ہو
اک شور میکدے میں اس انداز سے اٹھا
باقی ابھی ہے تنگی و وسعت میں ایک فرق
اس کو بھی جنبش لب اعجاز سے اٹھا
عصیاں سرشت و پاکی داماں کی ایک دلیل
کیا لطف حسن تفقہ پرداز سے اٹھا
کانٹے زمیں سے اور زیادہ ہوئے طلوع
اک مسئلہ بہار کے آغاز سے اٹھا
بنتی متاع کشف تو کیا آئینہ کی چھوٹ
لذت ہی کچھ اشارہ ہمراز سے اٹھا
یا رب تو لاج رکھ میرے شوق فضول کی
دنیا ہے نیند میں مری آواز سے اٹھا
اک منظر کنارہ بام اور دے گیا
پر تو سا کوئی اس کے در باز سے اٹھا
میں کیا کہ میرے بعد بھی جو لوگ واں گئے
کوئی نہ اس کی انجمن ناز سے اٹھا
مدنی قفس میں صبح ہوئی اور اسکے بعد
دل سے دھواں بھی حسرت پرواز سے اٹھا
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں