نیند کی خفتہ پابندی




نین کی خفتہ پابندی سے ادھر
دور اک شہر کے در و دیوار
خواب کی بستیوں کے سے آثار
چند پرچھائیوں کے دامن میں
نیم وا اک مکاں کا دروازہ
اور ہوا میں لکیر کی صورت
درد کی ایک رو سبک تازہ
کھڑکیوں کے دبیز شیشوں سے
وہ دبے پاؤں چھانکنے کی رات
وہ اشارے وہ چسمکیں وہ حیات
اک حسیں جسم سے لپٹتی ہوئی
نیم جاں چاند کی پشیماں ضو
وقت کی اوٹ مین سرکتا ہوا
زیر دیوار نیم رخ پر تو
اک بے خواب و نم فضا کا سکوت
رشتہء جسم و جاں میں کھو یا ہوا
موج انفاس میں سمویا ہوا
صبح تک جاگنے کے وہ ہنگام
قہقہے طنز گیت سرگوشی
گفتگو کے ہزارہا عنواں
نیند کی خفتہ پا بندی کا خرام
کاٹ کر وقت کے دیاروں کو
چھونے والا ہے آج گام بہ گام
در اک شہر کے کناروں کو
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں