نیند




نیند کے کے حاشیے پہ افسانے
سپرک کی طرح ہیں آوایزاں
چند بے برگ و بار ویرانے
بادلوں کی طرح ہیں چھائے ہوئے
چند اترے ہوئے خنک چہرے
ایک بار سکوت اٹھائے ہوئے
پتھروں کے مہیب گرز گراں
استخوانوں کے چند دھدلے ڈھیر
اور افق پر کراہتا سادھواں
داستاں رہ سپار صدیوں کی
سینہ کوہ دشت میں اب تک
راکھ ہے بے شمار صدیوں کی
کچھ صلیبوں سے خوں ٹپکتا ہوا
وقت ہی اک سوال کی صورت
جسم کے کرب میں لٹکتا ہوا
پتھروں کی فصیل کے اس پار
اگ رہے ہیں زمیں کے سینے سے
زنگ خوردہ ڈراؤنے اوزار
چاند پچھلے پہر اداس آسیبی
رات کا دامنوں پہ چلتا ہوا
خسکیوں کی حدیث کہتی ہوئی
وقت کی خفتہ پاندی جیسے
بے جہت بے خرام بہتی ہوئی
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں