مراجعت




ایک شوق خود نمائی کا گداذ
تیرے پیکر میں بھی اے آرام جاں
فصل و موسم کے ملے سر بستہ راز
خال و خط میں شیشہ ساعت کوئی
رشتہ بیداری فطرت کوئی
بئیت و ہندسہ کلی ترکیبوں سے دور
دھند کی صورت میں ہے چھایا ہوا
وقت کا ایک خواب تعبیروں سے دور
جلد کی تہہ میں گھنی پرچھائیاں
کنج خواب آلودہ کی تنہائیاں
لمحہء اول کا ایک شوق سپاس
وہ زبان مار سے ٹپکا ہوا
حرف یک اسرار و صد جاں قیاس
داستاں انگیز سرگوشی تری
نطق سے لبریز خاموشی تری
یہ قبا یہ جلد یہ ترکیب جسم
سلسلے مرگ و نمو کے خون میں
وقت کی یہ قید اک قید طلسم
یہ بہ عنوان رم عمر رواں
تیز تر اک گردش برکار جاں
جاختاؤں کے پروں کی نرمیاں
نین کی خنکی میں حل ہوتی رہیں
شوق کی موج نفس کے درمیان
تہہ بہ تہہ آخر اداسی جم گئی
عمر نو تھی رات کی شبنم گئی
ہر شب تاریک سے تاریک تر
موج خوں میں موت کی اک دھار ہے
خنجر اغیار سے باریک تر
خوش قبائی وقت کی اب کھو چکی
کاوش پیرایہ ء جاں ہو چکی
جنبش گہوارہ سلجھاتی رہی
رشتہ لمحات کی کوئی کڑی
قبر تک رشتہ بپا جاتی رہی
تیری نو خیزی کے پیچ و تاب سے
جا ملے ہیں موت کے گرداب سے
آتش جاں سد ہوتی ہی رہی
زندگانی ہر تغیر وقت کا
تیری مٹی میں سموتی ہی رہی
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں