صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے رہتے ہیں




صلیب و دار کے قصے رقم ہوتے رہتے ہیں
قلم کی جنبشوں پر سر قلم ہوتے ہیں ہی رہتے ہیں
شاخ گل ہے آئین نمو سے آپ واقف ہے
سمجھتی ہے کہ موسم کے ستم ہوتے ہی رہتے ہیں
کبھی تیری کبھی دستی جنوں کی بات چلتی ہے
یہ افسانے تو زلف خم بہ خم کی بات چلتی ہے
توجہ ان کی اب اے ساکنان شہر تم پر ہے
ہم ایسوں پر بہت ان کے کرم ہوتے ہی رہتے ہیں
ترے بند قبا سے رشتہء انفاس دوراں تک
کچھ عقدے ناخنوں کو بھی بہم ہوتے ہی رہتے ہیں
ہجوم لالہ و نفس سے تازہ دم ہوتے ہی رہتے ہیں
مرا چاک گریباں چاک دل سے ملنے والا ہے
مگر یہ حادثے بھی بیش و کم ہوتے ہی رہتے ہیں
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں