سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے




سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے
وہ زلف کھل گئی، تو ہواؤں کے خم گئے
ساری فضا تھی وادی مجنوں کی خوابناک
جو روشناس مرگ محبت تھے کم گئے
اب جن کے غم کا تیرا تبسم ہے پردہ دار
آخر وہ کون تھے کہ بہ مژگان نم گئے
اے جادہ خرام مہ وہ مہر، دیکھنا
وحشت سی ایک لالہ خونیں کفن سے تھی
اب بہار آئی تو سمجھو کہ ہم گئے
میں اور تیرے بند قبا کی حدیث خاص
نادیدہ خواب عشق بے رقم گئے
ایسی کوئی خبر تو نہیں سا کناں شہر
دریا محبتوں کے جو بہتے تھے تھم گئے
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں