تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی




تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی
پائے جنوں سے حلقہ گردش حال لے گئی
جرات شوق کے سوا خورتیان خاص کو
اک ترے غم کی آگہی تا بہ سوال لے گئی
شعلہ دل بجھا بجھا، خاک زباں اڑی اڑی
دشت ہزار دام سے موج خیال لے گئی
تیز ہوا کی چاپ سے تیرہ بنوں میں لو اٹھی
روح تغیر جہاں، آگ سے فال لے گئی
نافہء آہوئے تتار زخم نمود کا شکار
دشت ہے سے زندگی رو ایک نمود کا شکار
نرم ہوا پہ یوں کھلے کچھ ترے پیرہن کے راز
سب ترے جسم ناز کے راز وصال لے گئے
ماتم مرگ قیس کی کس سے بنے گی داستاں
نوحہء بے زباں کوئی چشم غزال لے گئی
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں