سمندر




قلزم نیلگوں ترے گرداب
رقص فرمائیں تیز تر ہو جائیں
اک ذرا اور بے خبر ہو جائیں
موج پابند پیرہن کب ہے
یہ کنارا ترا وطن کب ہے
یہ کنارا ترا وطن کب ہے
اک طفل شریر کے مانند
تو نے پہنچائی کشتیوں کو گزند
بھینچ کے میٹھوں میں چھوڑ دیا
اک کھلونا سمجھ کے توڑ دیا
کتنی پتوارں کے کھلے بازو
جذب کرتے رہے تری خوشبو
موج در موج تیری بے تابی
لم یزل بے کراں یہ بے خوابی
روح شام و سحر سنور تی رہی
تجھ سے سر گوشیاں سی کرتی رہی
گیت ملاحوں کے ہواؤں کے راگ
منزلوں کی حدیں سفر کا سہاگ
زہ کمانیں سی بال افشاں تیر
تیری آبی ہتھیلیوں کی لکیر
منتشر ہیں کہانیاں کیا کیا
وقت کی بے کرنیاں کیا کیا
قلزم نیلگوں ترے گرداب
عزیز حامد مدنی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں