ایسے پامال کہ پہچان میں آتے ہی نہیں




ایسے پامال کہ پہچان میں آتے ہی نہیں
پھول سے چہرے مرے دھیان میں آتے ہی نہیں
روک لیتی ہے کہیں راہ میں نوحوں کی صدا
خوش نوا گیت مرے کان میں آتے ہی نہیں
یوں تو کیا کیا نہ لیا زاد سفر چلتے ہوئے
چند سپنے ہیں جو سامان میںآتے ہیں
اس طرف لڑنے پہ آمادہ ہے لشکر اپنا
اور سالار کہ میدان میں آتے ہی نہیں
ایسے سپنے ہیں جنہیں ہم نے نہیں دیکھا ابھی
ایسے رستے ہیں جو امکان میں آتے ہی نہیں
جرم ایسا ہے کہ مجرم ہیں سبھی شہر کے لوگ
اور اسیر اتنے کہ زندان میں آتے ہی نہیں
اظہر عباس ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں