یہ رات آخری لوری سنانے والی ہے




یہ رات آخری لوری سنانے والی ہے
میں تھک چکا ہوں، مجھے نیند آنے والی ہے
ہنسی مذاق کی باتیں یہیں پہ ختم ہوئیں
اب اس کے بعد کہانی رلانے والی ہے
اکیلا میں ہی نہیں جا رہا ہوں بستی سے
یہ روشنی بھی مرے ساتھ جانے والی ہے
جو نقش ہم نے بنائے تھے، صرف وہ ہی نہیں
ہوائے دشت ہمیں بھی مٹانے والی ہے
ابھی تو کوئی بھی نام و نشاں اس کا
ہمیں جو موج کنارے لگانے والی ہے
ہر ایک شخص کا یہ حال ہے کہ جیسے یہاں
زمین آخری چکر لگانے والی ہے
اظہر عباس ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں