قدم قدم نشان ڈھونڈتا رہا




قدم قدم نشان ڈھونڈتا رہا
میں اک نیا جہان ڈھونڈتا رہا
بہت سے قافلے ملے تھے راہ میں
میں اپنا کاروان ڈھونڈتا رہا
نکل گیا جو میں حدود وقت سے
تو مجھ کو آسمان ڈھونڈتا رہا
ادھر میں دربدر مکان کے لئے
ادھر مجھے مکان ڈھونڈتا رہا
عجیب شخص ہوں، خوشی کا ایک پل
غموں کے درمیان ڈھونڈتا رہا
مجھے بیان کر رہا تھا کوئی شخص
میں اپنی داستان ڈھونڈتا رہا
اظہر عباس ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں