کیسا لمحہ آن پڑا ہے




کیسا لمحہ آن پڑا ہے
ہنستا گھر ویران پڑا ہے
بستر پر کچھ پھول پڑے ہیں
آنگن میں گلدن پڑا ہے
کرچی کرچی سپنے سارے
دل میں اک ارمان پڑا ہے
لوگ چلے ہیں صحراؤں کو
اور نگر سنسان پڑا ہے
اک جانب اک نظم کے ٹکڑے
اک جانب عنوان پڑا ہے
بقا بلوچؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں