کیا کہیں کیا حسن کا عالم رہا




کیا کہیں کیا حسن کا عالم رہا
وہ رہے اور آئنہ مدھم رہا
زندگی سے زندگی روٹھی رہی
آدمی سے آدمی برہم رہا
رہ گئی ہیں اب وہاں پر چھائیاں
اک زمانے میں جہاں آدم رہا
پاس رہ کر بھی رہے ہم دور دور
اس طرح اس کا مرا سنگم رہا
تو مرے افکار مین ہر پل رہی
میں ترے احساس میں ہر دم رہا
جی رہے تھے ہم تو دنیا تھی خفا
مر گئے تو دیر تک ماتم رہا
بقا بلوچؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں