نئے سمے کی کوئل




نئے سمے کی کوئل
پھیل رہی ہے چاروں جانب
نئے سمے کی سمندر خوشبو
آنے والے کل کی قسمت
نہ میں جانوں ، نہ جانے تو
کل کی کوکھ سے کیا پھوٹے گا
سبزہ، رنگت، تتلی، جگنو

جانے کب سے چمک رہے ہیں
پیڑ کی ہر اک شاخ پہ آنسو
اوراس پیڑ کی اک ڈالی پر
کوئل کرتی جائے کو کو !
دیکھتی جائے یونہی ہر سو
وقت کو جاتے دیکھ رہی ہے
اور یہ بیٹھی سوچ رہی ہے
گزرے سال نے کیا بخشا ہے
اگلے سمے میں کیا لکھا ہے

پچھلے سال کے باشندے تو
اب بھی سزائیں کاٹ رہے ہیں
اک دوجے کے سوگ میں بیٹھے
اپنے لہو کو چاٹ رہے ہیں

دیکھیں اگلے سال میں کیا ہو
پیڑ کی شاخوں پر کیا ہوگا
شبنم ، تارے ، جگنو ، آنسو
کوئل بیٹھی سوچ رہی ہے
وقت کو جاتے دیکھ رہی ہے
کوئل کرتی جائے کو کو !
بقا بلوچؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں