مجھے اک شعر کہنا ہے




مجھے اک شعر کہنا ہے
اداس کے حسیں لمحو !
کہاں ہو تم
کہ میں کب سے
تمہاری راہ میں
خوابوں کے نذرانے لئے بیٹھا
حسیں یادوں کی جھولی میں
کہیں گم ہوں
ارے لمحو !
مجھے اس خواب سے بیدار کرنے کیلئے آؤ
میری سوچوں کے خاکوں میں
ارے لمحو !
کوئی اک رنگ بھر جاؤ
مجھے اک شعر کہنا ہے
بقا بلوچؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں