اک روز کسی ویرانے میں




اک روز کسی ویرانے میں
اک گونج کسی شیدائی کی
جب کانوں سے ٹکرائی تھی

سیاہ آف کی ٹھنڈی چھاؤں میں
گرم آف کی تپتی ریتوں پر
وہ خونی راتیں آتی ہیں
بالاچ کی باتیں سنتا ہوں !

میں آج تلک ویرانے میں
سیاہ آف کی ٹھنڈی چھاؤں میں
گرم آف کی تپتی ریتوں پر
ان گلیوں میں، کوہساروں میں
صحرا کی چاندنی راتوں میں
اور ماں کی میٹھی لوری میں
بالاچ کی باتیں سنتا ہوں !
بقا بلوچؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں