آج اس عید پہ کیا شہر ہے ویراں اپنا




آج اس عید پہ کیا شہر ہے ویراں اپنا
ایک مقتل نظر آتا ہے گلستاں اپنا
ہائے وہ گل کہ معطر تھا زمانہ جس سے
ایسا مرجھایا، چمن ہو گیا ویراں اپنا
ہر طرف خوف ہے، دہشت کی فضا طاری ہے
کیا مقدر ہے یہی درد کا ساماں اپنا
اس طرح راکھ ہوئے ایک ہی محفل کے چراغ
رزق شب ہو گیا انداز چراغاں اپنا
بجلیاں اپنے ہی دامن کو جلانے آئیں
اپنی بستی کو بہا لے گیا طوفاں اپنا
کسی دشمن کے سپاہی، نہ کوئی فوج عدو
اپنا ہی جسم تھا اور خنجر براں اپنا
کوئی بیگانہ جو ہوتا تو گلہ بھی کرتے
یاں تو اپنوں ہی نے لوٹا ہے شبستاں اپنا
پھر خوشی دور ہوئی شہر بلوچاں سے بقا
پھر سے آباد ہوا شہر خموشاں اپنا
بقا بلوچؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں