دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے




دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے
نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑا
کوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے
وہی رسم کم نگاہی وہی رات کی سیا ہی
مرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے
نئے کواب میری منزل یہ آب میرا ساحل
تمہیں کیا ملے گا یارو مرے ساتھ ساتھ چل کے
یہ مشاہدہ ہے میرا رہ زندگی میں باصر
وہی منہ کے بل گرا ہے جو چلا سنبھل سنبھل کے
باصر سلطان کاظمی




اپنا تبصرہ بھیجیں