بحر دل مین یہ جو کیفیت ہیجانی ہے




بحر دل مین یہ جو کیفیت ہیجانی ہے
چاند سی چکل تری موجب طغیانی ہے
اب تو تجھ پر بھی کسی اور کا ہوتا ہے گماں
کس قدر دیر مین صورت تری پہچانی ہے
در و دیوار سے قائم تھا بھرم غربت کا
آج بے پردہ مر ی بے سرو سامانی ہے
میں جو مغموم ہوا، دل یہ پکارا باصر
میرے ہوتے تجھے کا ہے کی پریشانی ہے
باصر سلطان کاظمی




اپنا تبصرہ بھیجیں