قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ




قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ
زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ
ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ
قصورات میں میرے ہے ایک ایسی جگہ
گلہ بھی تجھ سے بہت مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
کیے ہوئے ہے فراموش تو جسے باصر
وہی ہے اصل میں تیرا مقام تیری جگہ
باصر سلطان کاظمی




اپنا تبصرہ بھیجیں